Adult HealthGeneral Public AwarenessMen's HealthWomen's Health

ڈینگی بخار علامات تشخیص اور علاج

Dengue Fever Symptoms Diagnosis Treatment

The following two tabs change content below.

Latest posts by Dr. Taimur Shahzad (see all)

ڈینگی بخار علامات تشخیص اور علاج

 

ڈینگی اصل میں ہسپانوی زبان کے لفظ ڈینگو سے نکلا ہے جسکے کے معنی شدید اکڑان اور قبضہ کے ہیں جبکہ اسکا نام ہڈی توڑ بخار ہے۔
اسےیہ نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ اس بخار کے دوران ہڈیوں اور پٹھوں میں درد کی شدت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ہڈیا ں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں مریض کے لیے یہ مرحلہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔
مریض کے خون کی ٹیسٹ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ خون میں شامل ایسے خلیے جو خون بہنے کی صورت میں اسکو جما دیتے ہیں کم ہونا شروع ہوجاتے ہے۔
ان خلیوں کو پلیٹ لیٹس کہا جاتا ہے۔جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ ڈینگی ایک وائرس ہےاور اس سے متاثرہ شخص ڈینگی بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔

انسانی جسم میں یہ وائرس ایک خاص مچھر کے کاٹنے سے داخل ہوتا ہےاس مچھر کو حروف عام میں ڈینگی مچھر کہتے ہیں جب مچھر کسی متاثرہ شخص کو کاٹنے کے بعد کسی نارمل آدمی کو کاٹے تو ڈینگی وائرس منتقل کر دیتا ہے۔اس لیے ڈینگی کے مریض کو ابتدائی چند دن تک تمام مریضوں سے الگ مچھر دانی کے اندر رکھا جاتا ہے،۔ کیونکہ ان دنوں خون میں گردش کرتا وائرس جہاں مریض میں بخار اور درد کی کیفیت میں ظاہر ہوتا ہےوہیں مچھر اگر کاٹ لےتو یہ وائرس مچھر میں داخل ہو کر بیماری پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔

 

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ بیماری براہ راست ایک شخص سے دوسر ے کو منتقل نہیں ہوتی صرف مچھر ہی اسکے انتقال کا باعث بنتا ہے۔اور صرف مخصوص مچھر ہی اس وائرس کو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں  مچھر کے صرف ایک دفعہ کاٹنے سے ہی یہ وائرس انسانی جسم میں جا کراُسے ڈینگی بخار میں مبتلا کردیتا ہےابھی تک کی ریسرچ کے مطابق ڈینگی وائرس کی چار اقسام سامنے آئی ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ان پر متفق ہیں ۔اور اس بات پر سب کا اتفاق ہےکہ انسان کو ایک قسم کا ڈینگی صرف ایک ہی بار ہوسکتا ہے۔دوسری مرتبہ اگر اِس شخص کو ڈینگی ہوگا تو دوسری قسم کے ڈینگی وائرس سے ہوگا۔اور یوں ایک شخص کو زیادہ سے زیادہ چار بار ڈینگی ہو سکتا ہے ۔یہاں یہ بھی اہم ہے کہ جب کسی شخص کو ڈینگی ہوجائے تو اسکے تین سے چھ ماہ تک وہ ہر قسم کے ڈینگی وائرس کے حملہ سے محفوظ رہتا ہے ۔

ڈینگی بخار کی علامات مچھر کے کاٹنے کے چار سے سات روز کے اندر ظاہر ہو سکتی ہیں ان علامات میں تیز بخار ،سردی کا لگنا،جسم شدید درد،کمزوری محسوس ہونا،ٹانگوں ،جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد،سر اور آنکھوں کے پیچھے درد ،چہرے اور جسم کا سرخ ہوجانا یا ہلکے گلابی دانوں سے بھر جانا اہم ہے ۔اسکے علاوہ مریض کی بھوک بہت متاثر ہوتی ہے اُ سے کچھ کھانا اچھا نہیں لگتا ہے ۔بعض صورتوں میں پانی بھی کڑوا محسوس ہوتا ہے۔بخار کی کفیت دو سے چار روز کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔مریض کو زیادہ پسینہ آنے لگتا ہے اور اس کی حالت سنبھل جاتی ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ بخار اترنےکے ایک دو دن بعد پھرتیزی دیکھاتا ہے اور پھر اُترنے لگتا ہے جس سے مریض کی بھوک بحال ہوجاتی ہے۔اور وہ دوبارہ کھانے پینے لگ جاتا ہے۔اس دوران مریض کو ایک خاص قسم کے دانے نکل سکتے ہیں

۔اور یہ مریض کی صحت یابی کی طرف اشارہ کرتا ہےاس میں مریض کے جسم پر سرخ نشانات پڑجاتے ہیں جن پر سفید دھبے نمایاں ہوتے ہیں اس حالت میں مریض کو ہاتھ اور پاوں میں خارش ہوتی ہےجسے ریکوری ریش کہا جاتا ہے۔ اور یہ حالت تین سے چار دن برقرار رہتی ہےاسکے بعد مریض ٹھیک ہو جاتا ہے۔ابھی تک سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق99%افراد سادہ ڈینگی کا شکارہوتے ہیں اس حالت میں عام طور پر مریض کے جسم سے خون جاری نہیں ہوتا۔بعض اوقات سادہ ڈینگی بخار میں مریض کو ناک اور منہ سے تھوڑا خون آسکتا ہے۔اس صورتحال سے گبھرانا نہیں چاہئے کیونکہ سادہ ڈینگی کا مریض ایک سے دو ہفتہ میں ٹھیک ہوجاتا ہے۔اس حالت میں ضروری نہیں کہ مریض کو ہسپتال داخل کرایا جائےکیونکہ دیکھا گیا ہے مریض اپنے گھروں میں بہتر آرام کرپاتے ہیں۔البتہ اگر خون آنے کی مقدارزیادہ ہوتو ایسے مریض کو ہسپتال داخل کروانا ضروری ہوتی ہے۔
ڈینگی کی شدید شکل ڈینگی ہیمریجک فیور(DENGUE HAEMORRRHAGIC FEVER-DHF)
کہلاتی ہے مگرخوش قسمتی سے اس سے متاثرہونے والوں کی تعداد صرف ایک سے دو فیصد ہے۔عام طور پر ڈینگی ہیمریجک فیوران لوگوں کو ہوتا ہےجن کو اس سے قبل کسی ایک قسم کے وائرس سے ڈینگی ہوا ہو اور دوسری باردوسری قسم کا وائرس داخل ہوجائے ایسےلوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔

جن کوپہلی بار ہونے والا انفیکشن ڈینگی ہیمریجک فیور ہو۔شروع کے چند دن تک سادہ ڈینگی اور ڈینگی ہیمریجک فیورکی علامات ایک سی ہوتی ہیں لیکن جب بخار اُترنے کے بعدمریض کی طبیعت بہتر ہونے کی بجائے مزید بےچین ہوجائے،پیٹ میں شدید دردہو۔زیادہ مقدار میں قےآنا شروع ہو جائےیا جسم کے کسی حصے سے خون آنا شروع ہوجائےتو اس بات کا امکان ہوتا ہےکہ مریض کو ڈینگی ہیمریجک فیور ہے۔اس مریض کو فوراً ہسپتال یا کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔کیونکہ ڈینگی ہیمریجک فیور بعض صورتوں میں خطرناک بھی ہو سکتا ہے

 

 

ڈینگی کی اس شدید صورت میں انسانی جسم میں موجود خون کی چھوٹی چھوٹی نالیوں سے پانی رسنا شروع ہو جاتا ہے ڈینگی وائرس چونکہ براہ راست خون میں شامل خلیوں پلیٹلیس پر حملہ کرتا ہے اس لیےخون میں پلیٹلیس کی تعداد کم ہونا شروع ہو جاتی ہے
پلیٹلیٹس کے ساتھ ساتھ سفید خلیوں میں بھی کمی آجاتی ہے
جس سے انسان کے جسم کا مدافعتی نظام بھی کمزور پڑنے لگتا ہے اس کے ساتھ خون کی نالیوں سے خون نکلنے کے باعث خون کے دباؤ میں کمی آجاتی ہے اوراگر بلڈ پریشر کی مقدار ایک خاص سطح سے گر جائے تو مریض کو غنودگی کی کیفیت ہوسکتی ہے جیسے ڈینگی شاک سینڈروم کہا جاتا ہے. ڈینگی کے مرض میں یہ انتہائی صورت ہوتی ہے اگر مرض کا بروقت علاج نہ ہو تو موت بھی واقع ہوسکتی ہے
البتہ اس کی شرح انتہائی کم ہے ڈینگی کی اس حالت میں مریض کو انتہائی نگہداشت اور مستند ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے

 

 

ڈینگی بخار کی تشخیص
دنیا بھر میں کسی بھی مرض کی تشخیص کے دو طریقے رائج ہے پہلا علامات اور دوسرا لیبارٹری ٹیسٹ ڈینگی بخار میں ہیں یہی دو طریقے کوفریق مرض کو پہچاننے میں مدد دیتے ہیں پاکستان میں ڈاکٹر کا پہلا عنصر علامات پر ہی ہوتا ہے جیسے بخار جلد پر سرخ دھبے آنکھوں کے پیچھے اور جسم کے مختلف حصوں میں شدید درد اور دیگر علامات جن کا ہم گزشتہ باب میں تذکرہ کر چکے ہیں شامل ہوتے ہیں مریض کے لیے. مرض کو جاننے کے لیے دوسرا طریقہ خون کا لیبارٹری ٹیسٹ ہے اس سے ڈاکٹر مریض کے خون کے سفید ذرات کی تعداد پلیٹلیٹ کی تعدادPVCیاHCTوغیرہ دیکھتے ہیں یہ ٹیسٹ پاکستان میں عام ہیں ان سے ڈینگی کی شناخت اور معالجے میں مدد ملتی ہے. ڈینگی کے مخصوص ٹیسٹ میںNS-1 antigen  کا ٹیسٹ شامل ہے جو بیماری کی ابتدا میں بخار کے دوران خون میں جانچا جاتا ہے دوسری قسم  کے ٹیسٹ میں ڈینگی کے خلاف خون میںAntibodie کی شناخت کی جاتی ہے اور ان میں سب سے زیادہ کیا جانے والا ٹیسٹDengue IGM ہے یہ ٹیسٹ اگر ابتدائی علامات پر کروا لیا جائے تو اس کے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوتے کیونکہ اینٹی باڈیز کو جسم میں بننے اور شناخت کرنے میں چار سے پانچ دن لگتے ہیں

ڈینگی کی درست تشخیص کے لئے خون کا ٹیسٹ ضروری ہے لیکن یہ ٹیسٹ خود کروانے کی بجائے کسی مستند ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کرایا جائے اور ڈاکٹر سے ہی پوچھا جائے کہ کتنی بار اس ٹیسٹ کی ضرورت ہے تاکہ مریض کو پریشانی کا سامنا نہ ہو

جدید دنیا یعنی ترقی یافتہ ممالک میں ڈینگی کی تشخیص کے لیے جدید ٹیسٹ بھی موجود ہیں جن میں سے ایک PCR کا ٹیسٹ ہے جس سے وائرس کی مخصوص قسم کی نشاندہی ہو جاتی ہے یہ بخار کی ابتدائی چند دنوں میں کارآمد ہوتا ہے لیکن اس کے بعد یہ نیگیٹیو ہو جاتا ہے خون کے ٹیسٹوں کے علاوہ کئی دفعہ مریض کو ایکسرے اور الٹراساؤنڈ کی بھی ضرورت پڑتی ہے یہ ٹیسٹ عام طور پر ڈینگی ہیمریجک فیورکو پہچاننے میں مدد دیتے ہیں اور علاج میں معاون
ثابت ہوتے ہیں

ڈینگی بخار کا علاج سادہ ڈینگی بخار کسی بھی دوسرے بخار کی طرح بالکل سادہ اور آسان ہے اور اس کے لیے کوئی خاص دوا نہ ہے اور نہ ہی استعمال کرنا چاہئے صرف بخار اتارنے والی عام دوا جو کہ پیراسیٹامول کھانی چاہیے یہ دوا بھی ایک خاص حد سے زیادہ نہیں کھانی چاہیےتاکہ دوسرے مسائل پیدا نہ ہو تاہم اگر بخار نہ اتر رہا ہو یا زیادہ ہو تو مریض کو ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرنی چاہئے یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ مریض کو کسی بھی صورت ڈسپرین پونسٹان بروفین یعنیNSAIDs Group کی ادویات نہیں کھانا چاہیے یہ مریض کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں کیونکہ یہ خون کے سرخ خلیوں یعنی پلیٹلیس پر اثر انداز ہوتی ہیں اور جسم سے خون کے اخراج کے امکانات کو بڑھا دیتی ہیں اس لیے اس ان کا استعمال سختی سے منع ہے اگر مریض کو بخار کے ساتھ شدید الٹی آرہی ہو تو ایسی صورت میں ضروری ہے کہ مریض کو ہسپتال یا مستند ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے تاکہ بعد میں مریض کا معائنہ کرنے کے بعد پانی اور نمکیات کی کمی کو پورا کرنے کی تدابیر اختیار کی جا سکیں مریض کا بخار اترنے کے بعد اگر جسم پر سفید دھبہ والے سرخ نشان ظاہر ہوجائیں تو ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں

ضرورت نہیں بلکہ یہ مریض کی ڈینگی پر جیت کا نشان ہوتے ہیں جیسے کہ پچھلے باب میں بھی بتایا گیا ہے کہ اگر مریض کا بخار اترنے کے بعد مریض کی حالت ٹھیک نہ ہو اسکی بے چینی میں کمی نہ ہو سانس لینے میں دشواری ہو پیٹ میں درد ہو غنودگی یا شدید کمزوری کی علامات ہوں تو ایسی صورت میں مریض کو فورا ہسپتال یا اپنے معالج سے رابطہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ ڈینگی ہیمریجک فیور کی علامت ہوسکتی ہےایسی صورت میں مریض کو ہسپتال میں داخل کر کے خون کے ٹیسٹ ایکسرے الٹراساؤنڈ کی مدد سے علاج کیا جاتا ہے مریض کو نپی تلی مقدار میں ڈرپ لگا دی جاتی ہے اور اگر خدانخواستہ خون رسنا شروع ہو جائے اور مریض کو انتقال خون کی ضرورت پیش آجائے تو اسپتال میں یہ سہولت دستیاب ہوتی ہیں

لیکن یہ فیصلہ مستند ڈاکٹر کو تمام رپورٹس دیکھ کر ہی کرنا چاہیے مریض کو بےجا ڈرپ لگانا یا بہت زیادہ مقدار میں پانی پلانا بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اس لئے بار بار اس ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے کہ مریض کے معاملے میں مستند ڈاکٹر سے ضرور رابطہ کیا جائےاور اگر پلیٹلیس کم بھی ہیں تو پلیٹلیٹس لگوانے کے لیے ضد نہ کی جائے کیونکہ بعض اوقات بے جا پلیٹلیٹس لگانا ریاض نقصان پہنچا سکتا ہے لہذا یہ فیصلہ ڈاکٹر کو ہی کرنا چاہیے مریض کے خاندان والوں کو اس معاملے میں کسی قسم کی ضد نہیں کرنی چاہیے سادہ ڈینگی بخار ایک بے ضرر بیماری ہے جس سے کبھی کسی مریض کی موت واقع نہیں ہوتی موت کا خدشہ صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب ڈینگی ہیمریجک فیور کے مریض کا بروقت علاج نہ ہو بروقت اور صحیح طریقہ علاج سے مریض جلد صحت یاب ہوجاتا ہے

ڈاکٹر صومیہ اقتدار

ڈاکٹر تیمور شہزاد

میڈی کال

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Tags

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Close
Close