Adult HealthChildren's HealthGeneral Public AwarenessLife StyleNutritionOld-Age Health

قربانی کا گوشت اور ہماری صحت

!! عید کے موقع پر گوشت کھانا کیسا

The following two tabs change content below.
Dr Ammar is a devoted family physician and wants to bring change in society through his words and positive energy. The Founder and President of a non profit organization Insaniyat Foundation Pakistan - IFP, Ex-South Punjab President at Minassatulkram Welfare Association & Member of other National and International non profits Organizations (Alkhidmat & Aziziya Foundation). A Writer, Doctor and Public Speaker for public awareness & Rehabilitation

قدرت نے انسان کو ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے۔ انسان اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف اقسام کی خوراک کھاتا ہے۔ جس میں پھل، سبزیاں، گوشت، مشروبات وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام چیزوں کو اپنی جگہ پر ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ متوازن غذا کھانے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی عمر اور صحت کے مطابق ان سب چیزوں کا اعتدال میں استعمال کیا جائے۔

 

دوسرے غذائی اجزاء کے علاوہ گوشت بھی انسانی خوراک کا اہم حصہ ہے۔ جس سے جسم کو پروٹین، آئرن، انرجی اور وٹامن B وغیرہ حاصل ہوتی ہیں۔ جوکہ ایک صحت مند جسم کیلئے ضروری ہیں۔ تاہم ہر غذا کے اپنے فوائد اور نقصانات ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کو روز مرہ کی ضرورت کے مطابق کھانا چاہیے۔ گوشت کھانے میں غیر معمولی زیادتی سنگین قسم کے صحت کے مسائل کا سبب بن جاتی ہے۔ مچھلی اور مرغی کے گوشت کو عام طور پر “وائیٹ میٹ” کہا جاتا ہے۔ اس سے انسانی جسم کو پروٹین وغیرہ حاصل ہوتی ہیں۔

تاہم “وائیٹ میٹ” اور “ریڈ میٹ” دونوں کے اپنے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں

وائیٹ میٹ میں کیلوریز اور چکنائی کی مقدار بھی نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اس طرح چوپائیوں اور دودھ پلانے والے جانوروں کا گوشت “ریڈ میٹ” کہلاتا ہے۔ مٹن (چھوٹا گوشت) میں چکنائی کی مقدار، چکن کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ بیف (بڑے گوشت) میں چکنائی کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ تاہم اس سے دوسری غذائی ضروریات مثلاً پروٹین، زنک، فاسفورس،آئرن اور وٹامن B وغیرہ پوری ہوتی ہیں۔

تاہم “وائیٹ میٹ” اور “ریڈ میٹ” دونوں کے اپنے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں اس لیے انہیں حد سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

عید کے موقع پر گوشت کھانے میں بے احتیاطی سے بچیں

مریض اور غذا

جہاں تک صحت مند افراد کا سوال ہے ان کے لیے تھوڑی احتیاط کافی ہے لیکن ایسے لوگ جو پہلے ہی مختلف قسم کی بیماریوں مثلاً یورک ایسڈ کی زیادتی، جوڑوں میں درد، بلڈ پریشر، شوگر، دل، معدہ یا جگر وغیرہ کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ انہیں اس موقع پر خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے اور گوشت سے پرہیز کرنا چاہیے یا ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق بہت تھوڑی مقدار میں استعمال کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر ان کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے یا ان کی بیماری شدید صورت اختیار کرسکتی ہیں۔

 

گوشت کو زیادہ دیر تک رہنے کا انجام

ہمارے معاشرے میں مال جمع کرنا بہت حد تک فروغ پا چکا ہے اور اس کا عملی مظاہرہ عید الاضحی کے موقع پر دیکھنے کو ملتا ہےاور لوگ گوشت کو فریزر میں جمع کر لیتے ہیں۔

 

جہاں تک گوشت کو فریز کرنے کا سوال ہے، تو کوشش کرنی چاہیے کہ گوشت کو ہفتے، دس دن سے زیادہ فریز نہ کیا جائے اور جلد از جلد استعمال میں لے آیا جائے۔ ہمارے ہاں لوڈ شیڈنگ کا بھی مسئلے کی وجہ سے گوشت کے خراب ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔

اگر اس مسئلے کا سامنا نہ ہو، تو بھی گوشت کے معیار اور غذائیت میں فرق آنا شروع ہوجاتا ہے۔ گوشت کو محفوظ کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ اسے فریز بھی کیا جاتا ہے یا کچھ لوگ گوشت ابال کر نمک لگاکر اسے خشک بھی کرتے ہیں۔ گوشت خراب ہونے کی علامات میں اس کا رنگ تبدیل ہونا یا بو آنا وغیرہ شامل ہیں۔

گوشت کا اعتدال سے استعمال نہ کرنا کیسا ؟؟

عید کے موقع پر احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کو طبی حوالے سے مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ بعض لوگ مندرجہ ذیل مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

دانتوں کے مسائل

 عام طور پر گوشت کو اچھی طرح سے صاف کرکے احتیاط سے نہیں بنایا گیا ہوتا، گوشت کے چھوٹے چھوٹے ذرے دانتوں میں رہ جاتے ہیں، جوکہ نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

مسوڑھوں میں سوجن

گوشت کے ریشے یا ہڈی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے مسوڑھوں یا دانتوں کی تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں۔

 یا مسوڑوں میں کٹ بھی لگ سکتے ہیں۔

بد ہضمی ہو جانا

زیادہ مقدار میں گوشت کھانے سے، گوشت آسانی سے ہضم نہیں ہوتا اور تکلیف کا باعث بنتا ہے۔

معدے میں سوزش

چھوٹا یا بڑا گوشت زیادہ مقدار میں کھانے سے معدے کی جھلیوں میں سوزش ہوجاتی ہے۔

رکئے جناب ! پیٹ تو اپنا ہے

ڈائریا یا قبض کی شکایت

بعض افراد میں گوشت کے زیادہ استعمال سے معدے کے دوسرے مسائل مثلا بد ہضمی، سوزش وغیرہ کے ساتھ ساتھ ڈائریا یا قبض کی شکایت بھی ہوتی ہے۔

بلڈ پریشر کے مسائل

بڑا گوشت کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر کے بڑھنے کا سبب بنتا ہے خصوصا ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں ۔

کولیسٹرول کا بڑھ جانا

عید الاضحی کے موقع پر عموما گوشت کا استعمال بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ کولیسٹرول کے بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔

جوڑوں کا درد

کولیسٹرول کا بڑھنا شوگر ، جوڑوں کا درد اور کینسر جیسے امراض کے بڑھنے کا سبب بنتے ہیں ۔

عید الاضحی اور گوشت

عید الاضحی جہاں اللہ تبارک و تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کا دن ہے وہیں اس موقع پر گوشت کی کثرت ہر امیر و غریب کیلئے ہوتی ہے اور ہر کوئی طرح طرح کے پکوان تیار کرکے گوشت کے مزے لوٹتے ہیں لیکن اسی جگہ کھانے میں بے احتیاطی انہیں کئی مسائل سے دوچار کرتی ہے۔

مندرجہ ذیل احتیاط ضروری ہے ۔

گوشت کو اچھی طرح پکا کر کھائیں

امراض قلب اور شوگر کے مریض کلیجی، گردے اور مغز ہرگز استعمال کریں

خارش، ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول، شوگر اور بواسیر کے مریض بڑا گوشت (گائے، بھینس) اور اونٹ کا گوشت بہت کم استعمال کریں۔

ہائی بلڈ پریشر والے افراد گائے اور اونٹ کا گوشت کھانے سے پرہیز کریں۔

یورک ایسڈ کے مریض گائے اور اونٹ کا گوشت نہ کھائیں۔

امراض قلب اور بلڈ پریشر کے مریض اپنے معالج کے مشورے سے گوشت کھائیں۔

مصالحہ جات بہت کم استعمال کریں ۔

ادرک اور دہی کا استعمال زیادہ کر دیں۔

ہڈی والا گوشت احتیاط سے کھائیں۔ نوک دار اور چھوٹی ہڈیاں منہ اور زبان کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

ورزش اور ہلکی واک کو اپنا معمول بنائیں۔

Tags

Related Articles

1 thought on “قربانی کا گوشت اور ہماری صحت”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close